بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ||
• جیسا کہ ہم جانتے ہیں ٹرمپ نے کہا ہے کہ میں ایسی مفاہمت کو قبول نہیں کروں گا جو ایران کی معیشت کو سانس لینے کا امکان فراہم کرے۔
• اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ گذشتہ مفاہمت نے اس کی حکمت عملی کو کس قدر نقصان پہنچایا تھا! اس مفاہمت کے نتیجے میں محاصرہ ختم ہؤا تو ایران ایک سال کا خرچہ تیل برآمد کر کے اور اسے پانی پر رکھ کر اور بیچ کر حاصل کر لیا جس کا مطلب یہ ہؤا کہ امریکہ کو ایک سال مزید، دباؤ کا سامنا کرنا ہوگا۔
• اب جبکہ ایرانی مسافر امریکہ سے واپس آ گئے ہیں، اور بات چیت اور انٹرویوز اور تعاملات کا نتیجہ معلوم ہو گیا ہے، تو کہا جا سکتا ہے کہ یہ امریکی اور عالمی رائے عامہ کے لئے ایک 'اتمام حجت' کا دورہ تھا۔
اس دورے کے موقع پر یہ پیغام دنیا کو پہنچایا گیا کہ ایران مظلوم واقع ہؤا ہے، اور ایران کوئی راستہ تلاش کرنے پر مجبور ہے جس میں دشمن کے وعدوں کی تعمیل کی ضمانت ہو، اس فریم ورک میں ایران ضروری لچک دکھاتا ہے؛ لیکن یہ دوٹوک پیغام بھی دیا گیا کہ "ایران ایران کبھی پسپا نہیں ہو گا۔"
ایران کے نمائندوں نے یہ باتیں نہ صرف سفارتی مذاکرات میں بلکہ عالمی سامعین کے سامنے بھی کہہ دیں، کیونکہ ٹرمپ پر سیاسی دباؤ اور اس کے مقابلے میں رائے عامہ، ایران کے اہم جنگی ہتھیاروں میں شامل ہیں۔
علاوہ ازیں ایران میں داخلی یکجہتی بھی جو نظام اور اس کے مجموعی منتظمین اور فیصلہ سازوں کے گرد ممکن ہے، حاصل ہو گئی ہے۔ اور معلوم ہؤا کہ یہ دور بہت ذہانت سے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ حتی ایران میں مجھ جیسے کئی لوگ ذاتی طور پر پزشکیان سے توقع نہیں رکھتے تھے کہ وہ کام نکال سکیں گے۔ لیکن انھوں نے اس امتحان میں پورے پورے کے نمبر حاصل کر لئے۔
• راقم نے دیکھا ہے کہ کچھ دوستوں کی ساری توجہ تیل کی قیمتوں میں اضافے اور ریپبلکنز اور ٹرمپ کے مخالفین کے اعداد و شمار پر مرکوز ہے، لیکن ایک بات نہیں بھولنی چاہئے کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب وغیرہ کا مکمل کنٹرول، خطے میں جوہری توازن کو بگاڑنا، ایران کو خطے میں ناقابل شکست ملک کے طور پر مستحکم کرنا، اسرائیل کا محاصرہ جاری رکھنا، امریکہ کا خطے سے انخلا اور ... ایسے معاملات نہیں ہیں جنہیں ریپبلکن کے جانے اور ڈیموکریٹ کے آنے یا ٹرمپ کے جانے اور بائیڈن اور اوباما کے آنے کی صورت میں، امریکہ تسلیم کر لے۔ کیونکہ یہ سارے واقعات استکبار کی حکمرانی اور بالادستی اکمیت کے اہم ترین ستونوں کو گرانے کے مترادف ہیں اور ہرگز ممکن نہیں ہے کہ کانگریس اور سینیٹ اور فلاں فلاں کی تبدیلی سے امریکہ اسے تسلیم کر سکے۔ چنانچہ غلطی نہ کریں۔
سوال یہ ہے کہ مسئلے کا حل کیا ہے؟ جواب یہ ہے کہ، حل یہ ہے کہ ایران یہ راستہ جاری رکھے، اور بس؛ کیونکہ نہ واپسی ممکن ہے، نہ رکنا ممکن ہے۔ امریکہ پر دباؤ اور داخلی تحمل و برداشت (forbearance)۔ اس برداشت کا اہم ترین ستون منتظمین اور عوام کی ذہنیت میں تبدیلی اور ارتقا ہے۔
• اتحاد، مزاحمت، داخلی سطح پر علم پر مبنی پیداوار (Knowledge based production) وغیرہ ۔۔۔ جیسے تصورات کو ایک ذہنیت اور فیصلہ سازی کا انداز بننا چاہئے۔ یہ اہم سافٹ ویئر واقعہ ہے جو جنگ کے دوران کافی حد تک آگے بڑھا ہے اور اسی پر جمے رہنا چاہئے۔ یہ راستہ بتدریج امریکی حکمرانوں کے فیصلہ سازی کے انداز کو بدل دے گا اور ایران کی قوت کو ناقابل تغیر امر کے طور پر، ثابت کرے گا۔
• یہ جنگ ـ ایران میں عدیم المثال تاریخی قائدین کے زیر انتظام 'عزت، حکمت، مصلحت' جاری رہنے والی 48 سالہ مشق کے بعد، واقع ہوئی ہے، ان تینوں میں سے ہر ایک کا حصہ اور مقدار اور مقام اگر عوام اور ذمہ داروں کے ذہن میں خراب ہو جائے، تو ایران اسی مقدار میں نقصان اٹھائیں گے۔ البتہ مجموعی طور پر حرکت کا راستہ فتوحات کی طرف بہت تیز رفتار ہو گیا ہے، اس سے بھی بہت زیادہ، جس کا ہم تصور کر سکتے تھے۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: علی مہدیان
ترجمہ: ابوفروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ